افضل حسین

افضل حسین

مصنفین

دریافت کریں اس مصنف کی 14 شائع شدہ تخلیقات — سچے قارئین کے لیے منتخب کردہ

مصنف “افضل حسین” کے بارے میں

شناخت: ماہرِ تعلیم، بچوں کے مصنف اور جماعتِ اسلامی ہند کے رہنماافضل حسین خان 2 جنوری 1918ء کو ضلع بستی (اتر پردیش) کے موضع جانتے ڈیہا میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام منصب دار خان تھا۔ ابتدائی تعلیم دودھارا کے پرائمری اسکول سے حاصل کی، جبکہ مڈل اور ہائی اسکول کی تعلیم خیر انٹر کالج بستی سے مکمل کی۔ بعد ازاں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے انٹرمیڈیٹ (1937ء) اور بی اے (آنرز، انگریزی) 1939ء میں پاس کیا۔ 1940ء میں انہوں نے الہ آباد یونیورسٹی سے ایل ٹی (موجودہ بی ایڈ) کی ڈگری حاصل کی۔ ایم اے آگرہ یونیورسٹی سے کیا۔انہوں نے 1941ء سے 1948ء تک مختلف سرکاری تربیتی اداروں میں تدریسی اور انتظامی خدمات انجام دیں، مگر 1948ء میں یہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے سرکاری ملازمت سے استعفیٰ دے دیا کہ موجودہ نظامِ تعلیم اسلامی نقطۂ نظر سے اطمینان بخش نہیں۔ اس کے بعد وہ مرکزی درسگاہِ اسلامی رام پور اور جماعتِ اسلامی ہند کے تعلیمی و تنظیمی کاموں سے وابستہ ہوگئے۔افضل حسین خان نوجوانی ہی میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی فکر سے متاثر ہوئے اور 1944ء میں جماعتِ اسلامی کی رکنیت اختیار کی۔ انہوں نے جماعتِ اسلامی ہند کے تعلیمی، تربیتی اور تنظیمی شعبوں میں طویل خدمات انجام دیں۔ وہ تقریباً پندرہ برس تک مرکزی درسگاہِ اسلامی کے ناظم رہے اور شعبۂ تعلیم سے پچیس برس تک وابستہ رہے۔ 1963ء سے 1970ء تک معاون قیم جماعت اسلامی ہند، جبکہ 1972ء سے 1989ء تک قیم جماعت اسلامی ہند (سیکریٹری جنرل) کے منصب پر فائز رہے۔تعلیم و تربیت ان کی زندگی کا مرکزی موضوع تھا۔ انہوں نے بچوں اور نوجوانوں کے لیے اصلاحی، اخلاقی اور تعلیمی نوعیت کی متعدد کتابیں تصنیف و ترتیب دیں۔ ان کی نمایاں تصانیف میں "فنِ تعلیم و تربیت"، "ہماری دنیا"، "آئینۂ تاریخ"، "ہمارے نغمے"، "عام معلومات"، "ہماری کتاب" اور "موتیوں کا ہار" شامل ہیں۔ خصوصاً "فنِ تعلیم و تربیت" کو اردو میں تعلیمیات کے موضوع پر ایک اہم اور مستند کتاب تصور کیا جاتا ہے۔وفات: افضل حسین خان کا انتقال یکم جنوری 1990ء کو نئی دہلی میں ہوا۔

“افضل حسین” کی کتابیں

Sponsored Advertisement