مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی
مصنفین
دریافت کریں اس مصنف کی 3 شائع شدہ تخلیقات — سچے قارئین کے لیے منتخب کردہ
مصنف “مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی” کے بارے میں
شناخت: بلند پایہ عالمِ دین، ممتاز سیاست دان، تحریکِ آزادیِ ہند کے نامور قائد، سابق ناظمِ اعلیٰ جمعیت علمائے ہند اور رکنِ پارلیمنٹ (بھارت)مولانا حفظ الرحمٰن سیوہاروی 1318ھ/1901ء میں ضلع بجنور کے قصبہ سیوہارہ کے ایک معزز زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد شمس الدین صاحب ریاست بھوپال اور بعد ازاں بیکانیر میں اسسٹنٹ انجنیئر کے عہدے پر فائز رہے۔ ابتدائی تعلیم سیوہارہ کے مدرسہ فیضِ عام اور مدرسہ شاہی مراد آباد میں حاصل کی۔ 1341ھ میں دار العلوم دیوبند میں داخل ہوئے اور 1342ھ میں دورۂ حدیث سے فراغت حاصل کی۔فراغت کے بعد دار العلوم دیوبند کی جانب سے آپ کو ایک مدرسہ میں تدریس کے لیے بھیجا گیا، جہاں ایک سال تک تدریسی خدمات انجام دیں۔ اسی زمانے میں تصنیف و تالیف کا سلسلہ بھی شروع کیا اور حجِ بیت اللہ کی سعادت حاصل کی۔ واپسی پر دار العلوم دیوبند میں درس و تدریس سے وابستہ ہوئے، پھر حضرت علامہ انور شاہ کشمیریؒ کے ساتھ جامعہ اسلامیہ ڈابھیل منتقل ہو گئے اور پانچ سال تک وہاں علمی خدمات انجام دیتے رہے۔1937ء (1352ھ) میں دہلی میں ندوۃ المصنفین کے قیام کے موقع پر اپنے رفیق مولانا مفتی عتیق الرحمن عثمانی کے ساتھ دہلی تشریف لے گئے اور وہاں علمی و تحقیقی میدان میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ اس دوران آپ نے اسلام کا اقتصادی نظام، اخلاق اور فلسفۂ اخلاق اور قصص القرآن جیسی اہم اور محققانہ تصانیف پیش کیں۔ اس سے قبل قید کے دوران بلاغ مبین کے نام سے سیرتِ نبوی پر ایک اہم کتاب بھی لکھی۔مولانا حفظ الرحمٰن سیوہاروی کی شخصیت کا ایک اہم پہلو ان کی سیاسی بصیرت اور عملی جدوجہد ہے۔ وہ جمعیت علماء ہند کے فعال اور بااثر رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے۔ 1930ء کے امروہہ اجلاس میں انہوں نے کانگریس کی تحریکِ آزادی میں شرکت کے حق میں جو تجویز پیش کی، وہ ابتدا میں شدید اختلاف کا شکار رہی، مگر ان کی جرأت، بصیرت اور اکابرینِ ملت کی تائید سے وہ تجویز بالآخر منظور ہو گئی۔ اس واقعہ نے انہیں کم عمری ہی میں سیاسی میدان میں نمایاں مقام عطا کر دیا۔1932ء کی تحریکِ آزادی کے دوران جمعیت علماء ہند کے قائم کردہ "ادارہ حربیہ" میں آپ کو رضاکاروں کے نظام کا ناظمِ اعلیٰ مقرر کیا گیا۔ آپ خفیہ طور پر ملک بھر کا دورہ کر کے تحریک کو منظم رکھتے اور کارکنوں میں روحِ حریت کو تازہ کرتے رہے۔ اس جدوجہد کے دوران متعدد بار گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا بھی کیا، مگر آپ ثابت قدم رہے۔1942ء میں جب دہلی میں جمعیت علماء ہند کی مجلسِ عاملہ کا ہنگامی اجلاس ہوا تو آپ نے اس کی تنظیم و انعقاد میں اہم کردار ادا کیا۔ 1946ء میں وزارتی مشن سے ملاقات کے موقع پر بھی آپ اس نمائندہ وفد کا حصہ تھے، جہاں آپ کی حاضر جوابی، مدلل گفتگو اور سیاسی فہم نے سب کو متاثر کیا۔ تقسیمِ ہند کے مسئلے پر بھی آپ نے جمعیت علماء ہند کے مؤقف کی بھرپور نمائندگی کی اور تقسیم کی مخالفت میں ڈٹ کر کھڑے رہے۔تقسیم کے بعد کے پُرآشوب دور میں مہاتما گاندھی نے جب فسادات کے خاتمے کے لیے بھوک ہڑتال کی، تو اکابرینِ جمعیت پر ان کا غیر معمولی اعتماد ظاہر ہوا۔ مولانا حفظ الرحمٰن سیوہاروی نے حالات کی بہتری کی یقین دہانی کرائی، جس پر گاندھی جی نے اپنا برت ختم کیا۔مسلسل مصروفیات کے باعث آپ کینسر کے مرض میں مبتلا ہو گئے۔ علاج کے لیے امریکہ بھی گئے، مگر صحت یاب نہ ہو سکے۔وفات: 1382ھ مطابق 2 اگست 1962ء کو نئی دہلی میں آپ کا انتقال ہوا اور وہیں شاہ ولی اللہ کے قبرستان مہندیان میں سپردِ خاک ہوئے۔