خواجہ غلام السیدین
مصنفین
دریافت کریں اس مصنف کی 16 شائع شدہ تخلیقات — سچے قارئین کے لیے منتخب کردہ
مصنف “خواجہ غلام السیدین” کے بارے میں
شناخت: ممتاز ماہرِ تعلیم، دانشور، مصنف اور ہندوستانی تعلیمی پالیسی سازخواجہ غلام السیدین 16 اکتوبر 1904ء کو پانی پت (ہریانہ، برطانوی ہندوستان) میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک علمی اور ادبی گھرانے سے تھا، ان کے والد خواجہ غلام الثقلین ایک ممتاز وکیل اور ادیب تھے۔ جبکہ والدہ مشتاق فاطمہ نہایت دیندار، بااخلاق اور حوصلہ مند خاتون تھیں۔ والد کے انتقال کے بعد والدہ نے ان کی تربیت میں بنیادی کردار ادا کیا اور سیدیّن ہمیشہ اپنی شخصیت کی تعمیر کا بڑا سہرا والدہ کی تربیت کو دیتے تھے۔ وہ اردو کے شہرہ آفاق شاعر اور مصلح مولانا الطاف حسین حالی کے پڑپوتے تھے۔ اسی علمی ماحول نے ان کی شخصیت میں خدمتِ خلق اور علم دوستی کا بیج بویا۔خواجہ غلام السیدین نے ابتدائی تعلیم پانی پت میں حاصل کی اور پھر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ایف۔اے، بی۔اے، ایم۔اے، ایل۔ایل۔بی کی ڈگریاں حاصل کیں۔ بعد ازاں وظیفہ پا کر انگلستان گئے اور University of Leeds سے ڈپلومہ اِن ایجوکیشن، ماسٹر آف ایجوکیشن (M.Ed.) کیا۔ وہاں سے واپسی پر 1936ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ٹریننگ کالج میں بطور پروفیسر مقرر ہوئے اور پھر اسی ادارے کے پرنسپل بنے۔ان کی انتظامی صلاحیتوں کے اعتراف میں انہیں مختلف ریاستوں میں اہم عہدوں پر فائز کیا گیا:1938ء: ریاست جموں و کشمیر میں ڈائریکٹر تعلیم مقرر ہوئے۔1946ء: ریاست رام پور اور پھر بمبئی (ممبئی) میں مشیرِ تعلیم رہے۔1950ء: حکومتِ ہند کے محکمہ تعلیم میں جوائنٹ ایجوکیشنل ایڈوائزر اور بعد ازاں سیکریٹری کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔غلام السیدین کا فلسفہ تعلیم جان ڈیوی کی عملیت پسندی اور علامہ اقبال کے تصورِ 'خودی' کا حسین سنگم تھا۔ انہوں نے تعلیم کو محض رٹا سازی اور ڈگریوں کے حصول کے بجائے 'فنِ زندگی' کے طور پر پیش کیا۔ وہ بنیادی تعلیم نئی تعلیم کے تصور کے بھی مؤید تھے اور تعلیم کو عملی ہنر، خود انحصاری اور سماجی خدمت سے مربوط کرنے پر زور دیتے تھے۔انہوں نے 'دو قومی نظریے' کی مخالفت کی اور متحدہ قومیت کے پرجوش حامی رہے۔ ان کا ماننا تھا کہ تعلیم کے ذریعے ہی فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور قومی یکجہتی پیدا کی جا سکتی ہے۔خواجہ صاحب اردو اور انگریزی دونوں زبانوں پر یکساں قدرت رکھتے تھے۔ ان کی تحریریں تعلیمی مسائل کے ساتھ ساتھ انسانی ارتقا اور سماجی بحرانوں کا احاطہ کرتی ہیں۔ ان کی اہم تصانیف درج ذیل ہیں:آندھی میں چراغ: (جس پر انہیں 1963ء میں ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ دیا گیا)۔Iqbal's Educational Philosophy: علامہ اقبال کے تعلیمی افکار کی بہترین تشریح۔Education, Culture and the Social Order: تعلیمی اور سماجی تعلق پر مبنی اہم کتاب۔فکرِ انسانی کا ارتقا اور زبان، زندگی اور تعلیم وغیرہ۔تعلیم اور ادب کے میدان میں ان کی گراں قدر خدمات پر انہیں متعدد اعزازات سے نوازا گیا:حکومتِ ہند کی جانب سے پدما بھوشن (1967ء)۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی جانب سے ڈی لٹ (D.Litt) کی اعزازی ڈگری۔ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ برائے اردو ادب۔وفات: 19 دسمبر 1971ء کو نئی دہلی میں انتقال ہوا۔