خیر النساء علیم

خیر النساء علیم

مصنفین

دریافت کریں اس مصنف کی 1 شائع شدہ تخلیقات — سچے قارئین کے لیے منتخب کردہ

مصنف “خیر النساء علیم” کے بارے میں

خیر النساء علیم کا پورا نام سیدہ اظہر خیر النساء ہے۔ ان کی ولادت 11 مئی 1948ء کو ایڈوکیٹ سید عبدالعلیم کے گھر حیدرآباد، تلنگانہ میں ہوئی۔  پیشہ درس و تدریس ہے۔ وہ افسانہ نگاری اور شاعری میں طبع آزمائی کرتی ہیں۔ ان کی تصنیفات اس طرح ہیں۔ (1)وہ چشم ہی کیا جو نم نہ ہو (افسانوی مجموعہ)، (2)ظلمتِ شب ہی سے تو ہوتی ہے نمودار سحر (افسانوی مجموعہ)،  (3)پھر برسنے کو ہے آنسو سرِ مژگاں (افسانوی مجموعہ)، (4)دستک درِ دل پر (افسانوی مجموعہ)،  (5)ایک دیا جلائے رکھنا (افسانوی مجموعہ)، (6)میری آواز سنو (افسانوی مجموعہ)، (7)میرے ہم سفر میرے ساتھ چل (افسانوی مجموعہ)، (8)ختم ہوئی بارشِ سنگ  (افسانوی مجموعہ)، (9)عکس در عکس (خواتین قلم کاروں کی کتابوں پر تبصروں کا مجموعہ)، (10)اور جب قصرِ یقیں ٹوٹ گیا (افسانوی مجموعہ)، (11)حرف حرف آئینہ-2022ء (مرد ادیب حضرات پر تبصروں کا مجموعہ)حمیرا عبدالواحد، پرنسپل کینوپسس ہائی اسکول (پنجہ شاہ)، حیدر آباد ان سے متعلق اظہار خیال اس طرح کرتی ہیں۔”خیر النساء علیم کی شخصیت وفن کے بارے میں بہت کچھ کہا جا سکتا ہے لیکن میں یہاں مختصر تعارف پیش کروں گی۔ وہ ایک سیدھی سادی، سنجیدہ اور حساس قلم کار ہیں۔ وہ اپنی تخلیقات کو مؤثر الفاظ کا جامہ پہناکر قارئین کے سامنے پیش کرتی ہیں تاکہ دل پر نقش ہو جائے اور صحت مندادب کے ذریعہ معاشرے میں بیداری پیدا ہوسکے۔ یہی ایک حساس اور کامیاب قلم کار کی خوبی ہے۔خیر النساء علیم کی تخلیقات جذبات واحساسات کی عکاس ہوتی ہیں، مصنفہ کی تخلیقات میں یہ احساسات محسوس کیے جاسکتے ہیں۔ وہ زندگی کو خوبصورتی سے سجانے کا سلیقہ رکھتی ہیں۔ اپنے قلم کو ہمیشہ محترک رکھتی ہیں۔ ظلمتِ شب میں سحر کی تلاش آپ کا مقصدِ حیات ہے۔ قلم کار کے قلم میں دم ہو تو وہ یقینا معاشرے کو آئینہ دکھانے کی جرأت کر سکتا ہے۔“

“خیر النساء علیم” کی کتابیں

Sponsored Advertisement